بنگلورو۔3/فروری(ایس او نیوز) ریاست میں بجلی کی قلت سے نمٹنے کیلئے تمام منصوبوں کی تکمیل،بجلی کی ترسیل اور تمام کنکشنوں کو میٹروں کی فراہمی کے کاموں میں کرناٹک کو خود کفیل بنانے کیلئے ریاستی حکومت اور مرکزی دیہی بجلی کارپوریشن کے درمیان 39700 کروڑ روپیوں کے قرضہ کی فراہمی کیلئے باہمی معاہدہ پر آج دستخط کئے گئے۔وزیر اعلیٰ سدرامیا، وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی موجودگی میں مرکزی وریاستی حکومتوں کے افسران نے اس معاہدہ پر مہر ثبت کی۔وزیر اعلیٰ کی ہوم آفس کرشنا میں منعقدہ سادہ تقریب میں دستخط کے بعد اخباری نمائندوں کو ڈی کے شیوکمار نے بتایاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے بجلی کی فراہمی کیلئے جن منصوبوں کی شروعات کی گئی ہے ان تمام کووہ اپنے طور پر مکمل نہیں کرپائے گی۔اسی لئے ان پراجکٹوں کو تیزی سے پورا کرنے کے پی ٹی سی ایل کے دس اور بیسکام کے چار پراجکٹ منتخب کئے گئے ہیں، جن کیلئے 39700 کروڑ روپے حاصل کرنے کیلئے معاہدہ ہوا ہے۔ مرکزی توانائی سنٹر کے اشتراک سے ان پراجکٹوں پر 90 فیصد رقم لگائی جائے گی، جبکہ دس فیصد رقم ریاستی حکومت کی طرف سے لگے گی۔ یہ قرضہ دس پندرہ اور بیس برسوں کی مدت میں ادا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ جن پراجکٹوں پر مرکزی کمپنی نے سرمایہ لگانے پر آمادگی ظاہر کی ہے ان میں یلہنکا پراجکٹ کیلئے 1257 کروڑ، گوندا پراجکٹ کیلئے 9084کروڑ، یرمراس پراجکٹ کیلئے 4000 کروڑ، شراوتی پمپنگ اسٹوریج پراجکٹ کیلئے 3600 کروڑ، کپت گٹا ون پاور پراجکٹ کیلئے 250کروڑ، چندا پورا سولار پراجکٹ کیلئے 48کروڑ، شیونا سمدرا پراجکٹ کیلئے 715کروڑ، وراہی پراجکٹ کیلئے 3600کروڑ روپے صرف کئے جائیں گے۔ جبکہ خصوصی قرضہ جات منصوبے کے تحت 3765کروڑ روپے، کے پی ٹی سی ایل حاصل کرے گی۔جبکہ بیسکام کے چار منصوبوں کیلئے بھی رقم مہیا کرائی جائے گی۔ وزیرموصوف نے بتایاکہ ریاست میں 9لاکھ کے قریب خاندانوں کو بجلی کی ترسیل کے عوض اب تک میٹر مہیا نہیں کرائے گئے ہیں۔ایک حالیہ سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے، جس کے سبب 270 کروڑ روپیوں کی لاگت پر ان تمام گھروں کو بجلی کے میٹر مہیا کرانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گرمیوں کے دوران بجلی کی قلت سے عوام کو پریشانی نہ ہو اس کیلئے تمام احتیاطی قدم ابھی سے اٹھائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں صنعتی پیداوار میں کمی اور خشک سالی کے سبب زرعی پمپ سیٹوں کے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی کھپت میں کمی آئی ہے، لیکن ساتھ ہی بارش کی کمی کے نتیجہ میں بجلی کی پیداوار میں بھی دس فیصد کمی واقع ہوئی ہے، ریاست میں دس ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار ممکن ہے، لیکن صرف 9200 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہی ہوپائی ہے، اس کے باوجود بھی رواں سال بجلی کی قلت نہ ہو یہ یقینی بنایا جارہاہے۔